رمضان المبارک
خدائے رحمن کے کروڑ احسان کہ اس نے ہمیں ماہِ رمضام جیسی عظیم نعمت سے سرفراز فرمایا۔درود و سلام اللہ تعالیٰ کی ان با برکت نعمتوں میں سے ہے جو اپنے دامن میں بے پناہ فیوض و برکات سمیٹے ہوئے ہیں۔ یہ ایسی لازوال دولت ہے کہ جسے مل جائے اس کے دین و دنیا سنور جاتے ہیں۔ درود و سلام محبوبِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعریف، اللہ تعالیٰ کی رحمت کا خزانہ، گناہوں کا کفارہ، بلندیِ درجات کا زینہ، قربِ خداوندی کا آئینہ، خیر و برکت کا سفینہ ہے۔ مجلس کی زینت، تنگ دستی کا علاج، جنت میں لے جانے والا عمل، دل کی طہارت، بلاؤں کا تریاق، روح کی مسرت، روحانی پریشانیوں کا علاج، غربت و افلاس کا حل، دوزخ سے نجات کا ذریعہ اور شفاعت کی کنجی ہے۔
احادیث مبارکہ میں درود و سلام کے بے شمار فضائل و برکات کا ذکر ملتا ہے جن میں سے چند ایک درج ذیل ہیں :
1۔ درود و سلام قربِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذریعہ ہے
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات گرامی سے والہانہ عقیدت و محبت جزوِ ایمان ہے۔ اس کے بغیر ایمان کی تکمیل نہیں ہوتی۔ درود و سلام پڑھنا، محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دلیل ہے۔ کثرت سے درود و سلام پڑھنے والے کو روزِقیامت قربِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نعمت سے فیض یاب کیا جائے گا۔ حضرت عبد اﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
أوْلَی النَّاسِ بِي يَومَ القَيَامَةَ أَکْثَرُهُمْ عَلَيَّ صَلَاةً.
(ترمذی، الجامع الصّحيح، أبواب الوتر، باب ماجاء في فضل الصّلاة علی النّبي صلی الله عليه وآله وسلم، 1 : 495، رقم : 484)
’’قیامت کے روز لوگوں میں سے میرے سب سے زیادہ قریب وہ ہوگا جو اس دنیا میں کثرت سے مجھ پر درود بھیجتا ہے۔‘‘
2۔ درود و سلام روحانی و جسمانی پاکیزگی کا باعث ہے
درود وسلام وہ پاکیزہ عمل ہے جو انسان کے تن اور من کو ہر قسم کی آلائشوں، کثافتوں اور آلودگیوں سے پاک و صاف کر دیتا ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
صلّوا عليّ فإنّ الصّلاة عليّ زکاةٌ لّکم.
’’مجھ پر درود پڑھا کرو۔ بلاشبہ مجھ پر (تمہارا) درود پڑھنا تمہارے لئے (روحانی و جسمانی) پاکیزگی کا باعث ہے۔‘‘
(ابن أبي شيبة، المصنف، 2 : 253، رقم : 8704)
3۔ درود و سلام شرفِ زیارت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وسیلہ ہے
درود و سلام کی سب سے بڑی فضیلت اور خصوصیت یہ ہے کہ کثرت سے درود و سلام پڑھنے والے کو خواب یا حالتِ بیداری میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت نصیب ہوتی ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت بہت بڑی سعادت ہے جو ہر ایک کو میسر نہیں آتی بلکہ خال خال ہی کسی کو نصیب ہوتی ہے۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو مومن جمعہ کی رات دو رکعت اس طرح پڑھے کہ ہر رکعت میں 25 مرتبہ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ سورۃ فاتحہ کے بعد پڑھے، پھر ہزار مرتبہ یہ درود پڑھے اللَّهُمَّ صَلِّی عَلَی مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ الْاُمِّي تو آنے والے جمعہ سے پہلے خواب میں میری زیارت کرے گا۔ جو میری زیارت کرے گا اﷲ تعالیٰ اس کے گناہ معاف فرما دے گا۔‘‘
(طبرانی، المعجم الأوسط، 6 : 173، رقم : 6111)
4۔ درود و سلام نزول رحمتِ خداوندی کا باعث ہے
درود و سلام کا ورد رحمتِ خداوندی کا خزانہ ہے۔ جو شخص خلوص دل سے درود و سلام کا ورد کرے تو اللہ تعالیٰ اس پر اپنی رحمتوں کی بارش نازل فرماتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا کتنا بڑا احسان ہے کہ ہم اس کے محبوب کی صرف تھوڑی سی تعریف کرتے ہیں تو وہ ہمیں اپنی رحمتوں کے خزانے سے مالا مال کر دیتا ہے۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
مَنْ صَلَّی عَلَیَّ وَاحِدَةً، صَلَّی اﷲُ عَلَيْهِ عَشْرًا
( مسلم، الصحيح، کتاب الصلاة، باب الصّلوٰة علی النّبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بعد التشھّد، 1 : 306، رقم : 408)
’’جس نے مجھ پر ایک مرتبہ درود پڑھا اﷲ تعالیٰ اس پر دس مرتبہ رحمتیں نازل فرمائے گا۔‘‘
5۔ درود و سلام گناہوں کی بخشش کا ذریعہ ہے
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بڑا مہربان ہے۔ اس کی رحمت بندوں کی بخشش کے بہانے تلاش کرتی رہتی ہے۔ اللہ کے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام بھیجنا بھی انہی بخشش کے بہانوں میں سے ایک ہے۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
’’جب (اﷲ تعالیٰ کے لئے) محبت رکھنے والے دو بندے ایک دوسرے سے ملتے ہیں اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجتے ہیں تو ایک دوسرے سے علیحدہ ہونے سے پہلے ان کے اگلے پچھلے سب گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔‘‘
(أبو یعلی، المسند، 5 : 304، رقم : 2960)
6۔ درود و سلام دنیا کے غموں کا مداوا ہے
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرما تے ہیں : میں نے عرض کیا : یا رسول اﷲ! صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں آپ پر کثرت کے ساتھ درود پڑھتا ہوں۔ میں اپنی دعا کا کتنا حصہ آپ پر درود کے لئے مقررکروں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جتنا تم پسند کرو۔ میں نے عرض کیا : ایک چوتھائی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ٹھیک ہے لیکن اگر کچھ اور بڑھا دو تو بہتر ہے۔ میں نے عرض کیا : کیا آدھا حصہ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ٹھیک ہے لیکن اگر کچھ اور بڑھا دو تو بہتر ہے۔ میں نے عرض کیا : دوتہائی ؟ فرمایا : اس میں بھی اضافہ کردو تو بہتر ہے۔ میں نے عرض کیا : میں اپنی ساری دعا (کا وقت ) آپ پر درود کے لئے وقف کر دوں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
إذا تُکْفی ھَمَّکَ، وَيُغْفَرُ لَکَ ذَنْبُکَ۔
’’تب تو تیرا ہر غم دور ہو گا اور ہر گناہ معاف کر دیا جائے گا۔‘‘
(ترمذی، الجامع الصّحیح، أبواب صفة القیامة، باب مَا جاَئَ فِي صفةِ أواني الحَوْضِ، 4 : 245، رقم : 2457)
7۔ درود و سلام قبولیتِ دعا کا ذریعہ ہے
حضرت عبد اﷲبن مسعود رضی اللہ عنہ سے روا یت ہے کہ میں نماز پڑھ رہا تھا اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ وہاں رونق افروز تھے۔ جب میں نماز پڑھ کر بیٹھ گیا تو پہلے میں نے اﷲ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی پھر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود پڑھا پھر اپنے لئے دعا مانگی تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
سَلْ تُعْطَهْ، سَلْ تُعْطَهْ۔
’’مانگ تجھے عطا کیا جائے گا، مانگ تجھے عطا کیا جائے گا۔‘‘
(ترمذی، الجامع الصحيح، أبواب السفر، باب ما ذُکِرَ فِي الثَّنَائِ علی اﷲ والصلاة علی النبي صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، 1 : 588، رقم : 593)
8۔ درود پڑھنے والے پر اﷲ تعالیٰ کا خود درود بھیجنا
درود و سلام پڑھنے کی برکت کا اندازہ اس بات سے ہو رہا ہے کہ اﷲ ربّ العزت درود پڑھنے والے پر خود درود بھیجتا ہے۔ حضرت عبد اﷲ بن عوف رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جبرائیل علیہ السلام میرے پاس آئے اور مجھے خوشخبری سنائی کہ آپ کا پروردگار فرماتا ہے :
مَنْ صَلَّی عَلَيْکَ صَلَّيْتُ عَلَيْهِ، وَمَنْ سَلَّمَ عَلَيْکَ سَلَّمْتُ عَلَيْهِ۔
( حاکم، المستدرک، 1 : 735، رقم : 2019)
’’جو شخص آپ پر درود پڑھتا ہے میں اس پر درود پڑھتا ہوں اور جو کوئی آپ کو سلام عرض کرتا ہے میں اس پر سلام بھیجتا ہوں۔‘‘
9۔ یومِ جمعہ حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنے کی فضیلت
جمعہ کے دن اور جمعہ کی رات کثرتِ درود و سلام کی بڑی فضیلت بیان ہوئی ہے۔ صحابہ کرام ثسے اس دن اور رات میں درود و سلام پڑھنے سے متعلق کثرت کے ساتھ احادیث مروی ہیں۔
حضرت اوس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
’’تمہارے دنوں میں جمعہ کا دن سب سے افضل ہے اس میں حضرت آدمں کو پیدا کیا گیا اور اسی میں ان کی روح قبض کی گئی اور اسی میں صور پھینکا جائے گا اور اسی میں سب بیہوش ہوں گے۔ پس اس روز مجھ پر کثرت سے درود بھیجا کرو کیونکہ تمہارا درود پڑھنا مجھ پر پیش کیا جاتا ہے۔ لوگ عرض گزار ہوئے : یا رسول اﷲ! اس وقت بھلا ہمارا درود پڑھنا کس طرح پیش ہوگا جبکہ آپ رحلت فرما چکے ہوں گے؟ یعنی مٹی (میں دفن) ہو چکے ہوں گے۔ آپ نے فرمایا : بیشک اﷲ تعالیٰ نے انبیاء کرام کے جسموں کو زمین پر حرام فرما دیا ہے۔‘‘
(ابن ماجة، السنن، کتاب الجنائز، باب ذِکْرِ وَفَاتِهِ وَدَفْنِهِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، 2 : 304، رقم : 1636)
درود و سلام پڑھنے کے آداب
درود و سلام پڑھتے وقت تعظیم و تکریم اور تواضع و انکساری کا اظہار علامتِ محبت ہے کیونکہ ہر محب اپنے محبوب کا ذکر نہایت ادب و احترام اور تواضع سے کرتا ہے۔ صحابہ کرام ث آقا علیہ الصلوٰۃ والسّلام کا ذکر نہایت خشوع و خضوع سے کرتے تھے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضری کے وقت ظاہری اور باطنی ادب و احترام کو ملحوظ خاطر رکھنا ضروری ہے کیونکہ یہ تقاضائے محبت و عقیدت بھی ہے اور علامت ایمان بھی۔ اس لئے بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں درود و سلام پیش کرتے ہوئے مندرجہ ذیل آداب کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
- درود و سلام پڑھنے سے قبل ظاہری صفائی کا اہتمام کرنا کیونکہ ہر عبادت کے لئے طہارت و پاکیزگی شرط ہے۔ اس لئے درود و سلام پڑھتے وقت جسم و لباس کا صاف ستھرا ہونا ضروری ہے۔
- جس جگہ درود و سلام پڑھا جا رہا ہو اس کا پاک صاف ہونا ضروری ہے اور ایسی جگہ پر درود و سلام پڑھنے سے گریز کیا جائے جہاں پر ظاہری اور باطنی غلاظت اور گندگی کا احتمال ہو۔
- درود و سلام پڑھتے ہوئے خوشبو لگانا مستحب ہے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خوشبو بہت پسند فرماتے تھے۔
- درود و سلام باوضو ہو کر پڑھنا چاہئے اگرچہ بغیر وضو کے درود و سلام پڑھنا بھی جائز ہے لیکن باوضو پڑھنا آداب میں شامل ہے۔
- درود و سلام کو دو یا چار زانو ہو کر، قبلہ رخ منہ کرکے اور آنکھیں بند کرکے پڑھا جائے۔
- امام نبہانی علیہ الرحمۃ قاضی عیاض علیہ الرحمۃ کا قول نقل کرتے ہیں کہ :
’’جو مسلمان حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر کرے یا جس کے پاس سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر کیا جائے اس پر واجب ہے کہ وہ خشوع و خضوع سے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وقار پیشِ نظر رکھتے ہوئے، بغیر حرکت کئے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہیبت و جلالت کو اس طرح ملحوظ خاطر رکھے جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضری کے وقت ملحوظ خاطر رکھتا ہے اور اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ادب و احترام کرے جس طرح اﷲ تعالیٰ نے ہم کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ادب سکھایا ہے۔ انہوں نے فرمایا : ہمارے سلفِ صالحین اور ائمہ و محدثین کا یہی دستور تھا۔‘‘
(نبہانی، سعادة الدارین، 1 : 220)
- درود و سلام پڑھتے ہوئے دل و دماغ کو حاضر رکھنا بہت ضروری ہے اور دل کو ہر طرح کے وسوسوں، دنیوی خیالات سے پاک کرکے پوری توجہ و دھیان سے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ہدیہ درود و سلام پیش کرنا چاہئے۔ امام مالک علیہ الرحمۃ کے سامنے جب حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر کیا جاتا تو آپ علیہ الرحمۃ کا رنگ بدل جاتا اور نالہ کناں ہو جاتے یہاں تک کہ ہم نشینوں پر سخت گراں گزرتا۔
(نبہانی، سعادة الدارین، 1 : 220)
- درود و سلام ذوق و شوق اور یکسوئی سے پڑھنا چاہئے اور پڑھنے والا سمجھے کہ وہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چشمان مقدس، واللّیل زلفوں اور چہرۂ والضّحی کا تصور کرے۔ (نبہانی، سعادۃ الدارین، 1 : 220)
تارکِ درود و سلام کے لئے وعید
بارگاہِ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں درود نہ بھیجنے والا اﷲ کی رحمت اور فضل سے محروم ہو جاتا ہے اور وہ فیوض و برکات جو درود و سلام کی بدولت حاصل ہوتے ہیں نہ پڑھنے والے کو حاصل نہیں ہوتے بلکہ احادیث مبارکہ میں درود و سلام نہ پڑھنے والے کی بڑی مذمت بیان ہوئی ہے۔
1۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
مَنْ نَسِيَ الصَّلَاةَ عَلَیَّ خَطِیَٔ طَرِيْقَ الْجَنَّةِ۔
’’جو مجھ پر درود پڑھنا بھول گیا وہ بہشت کی راہ بھول گیا۔‘‘
(ابن ماجة، السنن، کتاب إقامة الصّلاة و السنّة فیہا، باب الصّلاة علی النّبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، 1 : 491، رقم : 908)
2۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
رَغِمَ أنْفُ رَجُلٍ ذُکِرْتُ عِنْدهُ فَلَمْ يُصَلِّ عَليَّ۔
’’اس شخص کی ناک خاک آلود ہو جس کے سامنے میرا ذکر کیا جائے اور وہ مجھ پر درود نہ بھیجے۔‘‘
(ترمذی، الجامع الصحيح، أبواب الدعوات، باب في فَضْلِ التَّوْبَةِ وَالاَسْتِغْفَارِ وَمَا ذُکِرَ منْ رَحْمَةِ اﷲِ بِعِبَادِهِ، 5 : 513، رقم : 3545)
مَنْ لَمْ يُصَلّ فَلَا دِيْنَ لَہٗ۔
(ہیثمی، مجمع الزوائد، 1 : 295)
’’جو مجھ پر درود نہیں پڑھتا اس کا دین نہیں۔‘‘

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں