- اللہ
تعالی کا ہم پریہ احسان ہے اللہ تعالیٰ نے ہماری آسانی کے لیے زمانے کو بارہ
مہینوں میں تقسیم فرمادیاہے اور ان میں سے چار مہینوں محرم، رجب، دوالقعدہ اور ذو
الحج کو حرمت کے مہینے قرار دیا محسن انسانیت حضرت محمدؐ نے بعض مخصوص مہینوں کے
لیے کچھ اعمال او ران کے عظیم فضائل وبرکات بیان فرمائے ۔قمری سال اور اس کے
مہینوں کے تعارف کے سلسلے میں عربی اوراردومیں مختصر اور مفصل بہت کتب ترتیب دگی
ہیں جن میں ان مہینوں کی تاریخ اور ان میں سر انجام دی جانے والی عبادت کا تذکرہ
کیا گیا ہے
- عربوں نے اسلام سے پہلے قمری مہینوں کے نام استعمال
کیے ہیں اور پھر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عرب میں کچھ ناموں پر اتفاق ہو گیا اور
سارے عرب علاقے میں رائج ہو گئے، اور یہ وہی صورت تھی جس میں یہ نام آج کل ہمارے
ہاں معروف ہیں، نیز یہ پانچویں صدی عیسوی کا واقعہ ہے جو کہ نبی صلی اللہ علیہ
وسلم کے پانچویں دادا “کلاب” کا زمانہ تھا۔
- 1۔ محرم الحرام
کا معنی و مفہوم کیا ہے؟
- محرم کے لغوی معنی ہیں ممنوع، حرام کیا گیا، عظمت
والا اور لائق احترام
- 2۔ صفر کا معنی و
مفہوم کیا ہے؟
- صفر کے لغوی معنی خالی ہونے کے ہیں، جو گھر سامان سے
خالی ہو اسے کہتے ہیں: ” بیت صفر من المتاع”۔ خالی ہاتھ کو کہتے ہیں: “صفر الید”
(المنجد)کہا جاتا ہے کہ عرب محرم کے مہینے کا احترام کرتے ہوئے اس میں قتال وغیرہ
سے باز رہتے تھے لیکن ماہِ صفر کے شروع ہوتے ہی وہ قتال اور جدال کے لیے نکل کھڑے
ہوتے اور گھروں کو خالی چھوڑ دیتے ، اس لیے اس مہینے کا نام صفر پڑ گیا۔ واللہ
اعلم۔
- 3 ربیع الاول کا معنی و
مفہوم کیا ہے؟
- ربیع الاول کے لغوی معنی پہلی بہار کے ہیں اِس ماہ
کو تاریخ ِ انسانی میں خاص مقام حاصل ہے اِسی مہینے میں محسن انسانیت سرورِ دو
عالم محبوب خدا ۖ کی ولادت با سعادت ہو ئی ربیع الاول ہجری سال کا اہم سنگِ میل اور تاریخ
عالم میں نمایاں اور کلیدی مقام رکھتا ہے
- ربیع “رَبع” کے مادے سے بہار کے معنی میں ہے۔ اس
مہینے کو ربیع کہنے کی وجہ یہ ہے کہ اس کا نام بہار کے موسم میں رکھا گیا تھا
- ربیع الاول کی وجہ تسمیہ یہ ہے [یہ ” ارتباع” سے ہے]
اور ارتباع گھر میں ٹکے رہنے کو کہتے ہیں چونکہ اس مہینے میں لوگ اپنے گھروں میں
بیٹھےرہتے تھے ، اس لیے اسے ربیع کا نام دیا گیا، اس کی عربی زبان میں جمع: ”
أربعاء” جیسے ” نصيب” کی جمع ” أنصباء” آتی ہے، اسی طرح اس کی جمع ” أربعة”
بھی آتی ہے جیسے ” رغيف” کی جمع ” أرغفة” آتی ہے، ربیع الثانی کا وجہ تسمیہ بھی
یہی ہے۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں