ذوالحجہ کے پہلے نو دنوں میں روزہ رکھنے کی فضیلت ہر دن کا روزہ ایک سال کے روزوں کے مساوی ہے“(سنن ترمذی) - Islamic Wazaif with Naila khan

اہلِ ایمان کی ضروت و خواہش اور کثیر اصرار پر اس بلاگ کو مرتب کیا۔ Here you can find all qurani wazaif in urdu e islamic wazifa for love qurani wazaif hajat in urdu.islamic rohani wazaif islamic wazaif book islamic wazaif websites in urdu.islamic wazaif ka encyclopedia in urdu.islamic wazaif images islamic wazifa for glowing skin in urdu.qurani wazaif youtube.islamic wazifa for job.islamic wazifa for rozi.islamic wazifa for child islamic wazifa ke liye.islamic wazifa in arabic qurani wazaif.com

Adsense

ad

منگل، 28 جولائی، 2020

ذوالحجہ کے پہلے نو دنوں میں روزہ رکھنے کی فضیلت ہر دن کا روزہ ایک سال کے روزوں کے مساوی ہے“(سنن ترمذی)

Here you can find all qurani wazaif in urdu e islamic wazifa for love qurani wazaif hajat in urdu.islamic rohani wazaif
ذوالحجہ کے پہلے نو دنوں میں روزہ رکھنے کی فضیلت  ہر دن کا روزہ ایک سال  روزوں کے مساوی ہے“(سنن ترمذی)
حضوراکرم ﷺ نے دس ذالحج کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا:”اللہ تعالیٰ کے
نزدیک سب دنوں سے عظیم ترین دن قربانی 10 ذلاحج کا دن ہے، پھر اس کے
بعدوالادن۔“(سنن ابوداو¿د)”آقائے دو عالم ﷺ نے فرمایا کہ عشرہ ذی الحجہ میں کیے گئے نیک عمل سے زیادہ پاکیزہ اور زیادہ اجروالا عمل کوئی نہیں“
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے ہی مروی ہے کہ: ”آقائے دو عالم ﷺ نے فرمایا کہ عشرہ ذی الحجہ میں کیے گئے نیک عمل سے زیادہ پاکیزہ اورزیادہ اجروالا عمل کوئی نہیں۔ “(سنن دارمی )
ذوالحجہ کے پہلے عشرہ کے ایام کی فضیلت بیان کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں، اِن ایام کے مختلف اوقات کی قسم کھائی ہے۔ چنانچہ ارشاد ربانی ہے:”قسم ہے فجرکی، اور دس راتوں کی، اور طاق کی اور جفت کی، اور رات کی جب وہ چلنے لگے۔“(سورة الفجر)
یہ ایسے ایام ہیں جن میں دین اسلام کی مقرر کردہ تمام عبادات (نماز، روزہ، زکوة، جہاد اور حج وعمرہ وغیرہ) ادا کی جا سکتی ہیں، بالخصوص حج وقربانی اور حج کے تمام اعمال (تلبیہ، قیام منی و عرفات اور مزدلفہ، یوم عرفہ اور رمی وغیرہ) ایسے اعمال ہیں جو سارے سال میں صرف انہی ایام میں مخصوص مقامات میں ہی اداکئے جا سکتے ہیں۔ یوں ہمہ قسم کی عبادات کا ان دنوں میں اکٹھے ہوجاناان ایام ( ذوالحجہ کے پہلے دس دنوں)کا ایسا شرف واعزاز ہے جو کسی اور دن کو حاصل نہیں۔ یہی مضمون آقائے دو جہاں ﷺ کے ایک فرمان ذی شان سے بھی عیاں ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”دنیاکے افضل ترین ایام ذوالحجہ کے ابتدائی دس دن ہیں۔“(صحیح الجامع الصغیروں سے زیادہ محبوب اور کوئی دن نہیں، لہذا تم ان دنوں میں کثرت سے تسبیح، تحمید اور تہلیل کیا کرذوالحجہ کے ابتدائی دس دن (پہلاعشرہ) پورے سال میں سب سے زیادہ برکت والے دن ہیں۔ ان کا مقام و مرتبہ بہت بلند ہے۔ ان میں نیکیاں کمانے کے کئی مواقع ہیں۔ یہ ایسے مبارک ایام ہیں کہ جن کاایک ایک لمحہ اور ایک ایک سیکنڈ انتہائی قیمتی ہے، ان ایام میں بارگاہ الٰہی سے ایسی خصوصی پیشکش (اسپیشل آفر)کی گئی ہے جو سال کے بقیہ دنوں کیلئے نہیں ہے، یہ نیکیوں میں مقابلہ کرنے کا وسیع میدان اور سنہرا وقت ہے۔ یہ نفع کما لینے کا ایسا موسم ہے کہ ان دنوں میں کئے گئے اعمال صالحہ کے بارے میں اللہ کی جانب سے بہت زیادہ پسندیدگی کا اعلان کیاگیا ہے۔ چنانچہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ سرور دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” عشرہ ذوالحجہ میں کئے گئے اعمال صالحہ اللہ کو اس قدر زیادہ محبوب ہیں کہ اتنا کسی اور دن میں پسند نہیں، صحابہ ؓ نے دریافت کیا، حتی کہ جہاد فی سبیل اللہ بھی اتنا پسندیدہ نہیں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں، سوائے اس شخص کے جو اپنا جان ومال لے کر نکلااور (مال اور جان خرچ کرتے ہوئے) خالی ہاتھ واپس ہوا (شہید ہو گیا)“(صحیح بخاری)ﷺ نے۹ذی الحجہ (یوم عرفہ) کے دن روزہ رکھنے کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا: ”عرفہ(۹ذی الحجہ) کے دن کے روزہ کے بارے میں مجھے اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ یہ روزہ گزشتہ اورآئندہ سال کے لئے کفارہ ہو جائے گا۔ “(صحیح مسلم)
۹ ذی الحجہ کے روزہ کی یہ فضیلت حجاج کے علاوہ ان افرادکے لئے ہے جوعرفہ کے علاوہ مقامات میں ہوں جو لوگ حج کیلئے عرفات میں موجود ہوں انہیں حضور کی سنت کے مطابق روزہ نہیں رکھناچاہئے تاکہ وہ ذہنی وجسمانی طور پر مکمل یکسوئی اور قوت کے ساتھ اپنے ذکروعبادات میں مشغول رہیں۔
ہر علاقہ کے لوگ اپنے اپنے علاقہ کی چاندکی تاریخ کے مطابق ۹ذوالحجہ کا روزہ رکھیں گے۔ جیساکہ عیدالاضحیٰ اور عیدالفطر بھی ہر علاقہ والے اپنے ملک کی چاندکی تاریخ کے مطابق کرتے ہیں۔ دیگر ممالک کے جو لوگ اپنی تاریخ کو نظرانداز کرکے سعودیہ کے مطابق روزہ رکھیں گے وہ اس فضیلت سے محروم رہیں گے۔
احادیث میں جیسے ذی الحجہ کے پہلے دس دنوں کے فضائل منقول ہیں، ایسے ہی ان دنوں میں سے خاص ایام کے فضائل الگ الگ بھی منقول ہیں۔ چنانچہ ۹ذی الحجہ (یوم عرفہ)کی فضیلت بیان کرتے ہوئے آپ نے ارشادفرمایا:”عرفہ کے دن سے زیادہ کسی دن حق سبحانہ وتعالیٰ لوگوں کو جہنم سے آزادی نہیں دیتے.اس دن اللہ تعالی قریب ہوتے ہیں اور ان (عرفہ میں ٹھہرے ہوئے لوگوں )کی وجہ سےفر شتوں کے سامنے فخر کرتے ہیں، اور فرماتے ہیں یہ لوگ کیا
چاہتے ہیں۔(صحیح مسلم)



کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

ad