وقوف عرفات کی طرف روانگی۔۔عرفات میں کتنی دفعہ اذان اور اقامت - Islamic Wazaif with Naila khan

اہلِ ایمان کی ضروت و خواہش اور کثیر اصرار پر اس بلاگ کو مرتب کیا۔ Here you can find all qurani wazaif in urdu e islamic wazifa for love qurani wazaif hajat in urdu.islamic rohani wazaif islamic wazaif book islamic wazaif websites in urdu.islamic wazaif ka encyclopedia in urdu.islamic wazaif images islamic wazifa for glowing skin in urdu.qurani wazaif youtube.islamic wazifa for job.islamic wazifa for rozi.islamic wazifa for child islamic wazifa ke liye.islamic wazifa in arabic qurani wazaif.com

Adsense

ad

پیر، 27 جولائی، 2020

وقوف عرفات کی طرف روانگی۔۔عرفات میں کتنی دفعہ اذان اور اقامت

Here you can find all qurani wazaif in urdu e islamic wazifa for love qurani wazaif hajat in urdu.islamic rohani wazaif islamic wazaif https://islamicwazaifwithnailakhan.blogspot.com/
وقوف عرفات کی طرف روانگی  

وقوف عرفات کی طرف روانگی کا وقت 9 ذوالحجہ کو نماز ظہر کے بعد سے لے کر 10 ذوالحجہ کی طلوع فجر تک ہے، کوئی بھی شخص حالتِ احرام میں حج کی نیت سے ان اوقات میں ایک پل یا اس سے زیادہ کے لئے عرفات میں داخل ہو جائے تو اس کا حج ہو جائے گا اور اگر کوئی شخص ان اوقات میں عرفات میں داخل نہیں ہوتا تو اس کا حج نہیں ہو گا۔
حضرت عبد الرحمن بن یعمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : حج وقوفِ عرفہ کا نام ہے۔
وَمَنْ اَدْرَکَ عَرَفَة قَبْلَ اَنْ يَّطْلَعَ الْفَجْرُ فَقَدْ اَدْرَکَ الْحَجَّ.
(ترمذی، الجامع الصحيح، أبواب القراء ت، باب ومن سورة البقرة، 5 : 84، رقم : 2975)
’’اور جس نے (مزدلفہ کی) طلوع فجر سے پہلے پہلے عرفات کے وقوف کو پا لیا اس کا حج ادا ہو گیا۔‘‘

عرفات میں کتنی دفعہ اذان اور اقامت

جواب : عرفات میں ظہر اور عصر کے لئے ایک اذان اور دو تکبیریں کہی جائیں اور مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نماز کے لئے ایک اذان اور ایک تکبیر کہی جائے۔ مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نماز ایک اذان اور ایک تکبیر کے ساتھ ادا کرنے کے حوالے  حضرت عبد اﷲ بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے میں نے حضرت ابن عمر رضی اﷲ عنہما کے ساتھ مغرب کی تین رکعتیں اور عشاء کی دو رکعتیں پڑھیں۔ مالک بن حارث نے ان سے کہا یہ کیسی نماز ہے؟ فرمایا کہ میں نے ان دونوں نمازوں کو اسی جگہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک ہی اقامت سے پڑھا ہے۔
(ابو داؤد، السنن، کتاب المناسک، باب الصلاة بجمع، 4 : 141، رقم : 1929)

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

ad