ذالحجہ کی پہلی دس راتوں کو عظمت و فضیلت کا وہ خزانہ عطا کیا گیا ہے کہ ہر ایک رات رمضان المبارک کی لیلۃ القدر کے برابر ہے - Islamic Wazaif with Naila khan

اہلِ ایمان کی ضروت و خواہش اور کثیر اصرار پر اس بلاگ کو مرتب کیا۔ Here you can find all qurani wazaif in urdu e islamic wazifa for love qurani wazaif hajat in urdu.islamic rohani wazaif islamic wazaif book islamic wazaif websites in urdu.islamic wazaif ka encyclopedia in urdu.islamic wazaif images islamic wazifa for glowing skin in urdu.qurani wazaif youtube.islamic wazifa for job.islamic wazifa for rozi.islamic wazifa for child islamic wazifa ke liye.islamic wazifa in arabic qurani wazaif.com

Adsense

ad

پیر، 27 جولائی، 2020

ذالحجہ کی پہلی دس راتوں کو عظمت و فضیلت کا وہ خزانہ عطا کیا گیا ہے کہ ہر ایک رات رمضان المبارک کی لیلۃ القدر کے برابر ہے

Here you can find all qurani wazaif in urdu e islamic wazifa for love qurani wazaif hajat in urdu.islamic rohani wazaif islamic wazaif book islamic wazaif websites in urdu

Reward for fasting and 

                          In Month Dhu al-Hijjah

ذالحج کے مہینہ کے فضائل

حدیث کے مطابق ذی الحجہ کے ابتدائی نو دن روزہ رکھنا اور ذی الحجہ کی پہلی 10 راتوں میں عبادت (تہجد) میں کھڑے ہونے کے لئے بڑے ثواب کا ذکر کیا گیا ہے: اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: ابھی اور دن باقی نہیں ہیں اللہ کے لئے محبوب ہے کہ ذی الحجہ کے دس دن کے مقابلے میں ان میں ان کی عبادت کی جائے ، ان میں سے ہر ایک کا روزہ سال کے روزے کے برابر ہے۔ اور ان میں سے ہر رات (صلا. میں) کھڑا ہونا شب قدر پر کھڑے ہونے کے مترادف ہے۔ - ترمذی ، 758



اس دن کی نماز ، روزہ ، صدقہ ، تکبیر اور حج کے ایام میں عبادت کے امتزاج کی وجہ سے 10 دن ممتاز ہونے کی وجہ ہے۔

ذی الحجہ کے پہلے نو دنوں سے خاص طور پر یوم عرفہ (ذی الحجہ کی نویں تاریخ) کو دو سال کے گناہ کے کفارہ کے طور پر روزہ رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔

ابو قتادہ بیان کرتے ہیں کہ محمد سے عرفہ کے دن روزے کے بارے میں پوچھا گیا تھا۔ انہوں نے کہا: جیسا کہ یوم عرفہ کے روزوں کے بارے میں ، میں توقع کرتا ہوں کہ اللہ اس کے بعد اور اس سے ایک سال پہلے کے سال (یعنی سال کے گناہوں) کو معاف کردے گا۔

 ماہ ذوالحجہ کی برکتیں
حج و قربانی کی مناسبت سے ماہ ذوالحجہ کو اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس قدر برکتیں اور سعادتیں عطا کر رکھی ہیں کہ آقائے دو جہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمایا:
’’پہلی رات کے چاند کے ساتھ ذوالحجہ کا آغاز ہوتا ہے تو اس کی پہلی دس راتوں میں سے ہر رات اپنی عظمت میں لیلۃ القدر کے برابر ہے‘‘
لیلۃ القدر کی مناسبت سے جہاں ماہ رمضان المبارک کو منفرد شان والی ایک رات لیلۃ القدر نصیب ہوئی ہے جس کے اندر چند ساعتیں اللہ کے بندوں کی مغفرت و بخشش کا سامان لئے ہوئے وارد ہوتی ہیں اور جن میں اخلاص کے ساتھ بندہ اپنے رب سے جو بھی بھلی شے طلب کرتا ہے وہ اسے عطا کر دی جاتی ہے۔  ذوالحجہ کی پہلی دس راتوں کو عظمت و فضیلت کا وہ خزانہ عطا کیا گیا ہے کہ ہر ایک رات رمضان المبارک کی لیلۃ القدر کے برابر ہے۔ جس طرح رمضان المبارک کی برکتوں کو سمیٹ کر عید الفطر میں رکھ دیا گیا اور اس دن کو خوشی کے دن کے طور پر مقرر کر دیا گیا۔ ان دس راتوں کے اختتام پر اللہ رب العزت نے عیدالاضحٰی کے دن کو مسرت و شادمانی کے دن کی صورت میں یادگار حیثیت کر دی۔ اس دن کو عرف عام میں قربانی کی عید کہتے ہیں۔
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
مامن ايام العمل الصالح فيهن احب الی الله من هذه الايام العشرة قالوا يارسول الله ولا الجهاد في سبيل الله، قال ولا الجهاد في سبيل الله الا رجل خرج بنفسه وماله فلم يرجع من ذلک بشئی
’’ان دس دنوں (عشرہ ذی الحجہ) میں اللہ تعالیٰ کے حضور نیک عمل جتنا پسندیدہ و محبوب ہے کسی اور دن میں اتنا پسندیدہ و محبوب تر نہیں۔ صحابہ کرام نے عرض کی یارسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم! اللہ کے راستہ میں جہاد بھی نہیں، فرمایا جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں۔ ہاں وہ شخص جو اپنی جان اور مال کے ساتھ نکلا اور کچھ لے کر گھر نہ لوٹا‘‘۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
ما من ايام احب الی الله ان يتعبدله فيها من عشر ذی الحجة، يعدل صيام کل يوم منها بصيام سنة وقيام کل ليلة منها بقيام ليلة القدر
’’اللہ تعالیٰ کو اپنی عبادت بجائے دوسرے اوقات و ایام میں کرنے کے عشرہ ذوالحجہ میں کرنی محبوب تر ہے۔ اس کے ایک دن کا روزہ سال بھر کے روزوں کے برابر ہے اور اس کی ایک ایک رات کا قیام، لیلۃ القدر کے قیام کے برابر ہے‘‘۔
(ترمذی، ابن ماجه)
قرآن پاک اور احادیث مبارکہ میں عشرۂ ذی الحجہ میں جن اعمال کے کرنے کی فضیلت آئی ہے وہ مندرجہ ذیل ہیں:
1۔ ذکر الٰہی اللہ کا ذکر کا اہتمام کرنا:
اللہ عزوجل نے قرآن پاک میں ان دس دنوں میں اپنا ذکر کرنے کا خصوصی طور پر تذکرہ فرمایا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ فِي أَيَّامٍ مَّعْلُومَاتٍ.
اور مقررہ دنوں کے اندر اﷲ کے نام کا ذکر کرو۔
الْحَجّ، 22: 28
صحابہ کرام اور محدثین و مفسرین کے نزدیک ان ایام معلومات سے مراد عشرۂ ذی الحجہ کے دس دن ہیں۔
2۔ کثرت سے تہلیل، تکبیر اور تحمید پڑھنا:
امام احمد نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا
’’کوئی دن بارگاہ الٰہی میں ان دس دنوں سے زیادہ عظمت والا نہیں ،اور نہ ہی کسی دن کا (اچھا) عمل اللہ کو ان دس دنوں کے عمل سے زیادہ محبوب ہے پس تم ان دس دنوں میں کثرت سے لا الہ الا اللہ ،اللہ اکبر اور الحمد للہ کہو‘‘
سلف صالحین اس عمل کا بہت اہتمام کیاکرتے تھے۔ امام بخاری نے بیان کیا ہے کہ ’’ان دس دنوں میں حضرت عبداللہ بن عمر اور حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنھما تکبیر کہتے ہوئے بازار نکلتے اور لوگ بھی ان کے ساتھ تکبیر کہنا شروع کردیتے‘‘
3۔ بال ناخن وغیرہ نہ تراشنا:
کوئی شخص قربانی کا ارادہ رکھتا ہو اور ذی الحجہ کا مہینہ شروع ہوجائے تو اسے چاہئے کہ قربانی کرنے تک اپنے ناخن بال وغیرہ نہ کاٹے۔ ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
اذا دخل العشر واراد بعضکم ان يضحی فلا ياخذن شعرا ولا يقلمن ظفرا
’’جب ماہ ذی الحجہ کا چاند نظر آئے (عشرہ ذی الحجہ داخل ہوجائے) اور تم میں کوئی قربانی کا ارادہ کرے تو اپنے بال اور ناخن نہ کاٹے‘‘۔


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

ad