فضائل و فوائد سورۃ ملک شریف - Islamic Wazaif with Naila khan

اہلِ ایمان کی ضروت و خواہش اور کثیر اصرار پر اس بلاگ کو مرتب کیا۔ Here you can find all qurani wazaif in urdu e islamic wazifa for love qurani wazaif hajat in urdu.islamic rohani wazaif islamic wazaif book islamic wazaif websites in urdu.islamic wazaif ka encyclopedia in urdu.islamic wazaif images islamic wazifa for glowing skin in urdu.qurani wazaif youtube.islamic wazifa for job.islamic wazifa for rozi.islamic wazifa for child islamic wazifa ke liye.islamic wazifa in arabic qurani wazaif.com

Adsense

ad

جمعرات، 13 اگست، 2020

فضائل و فوائد سورۃ ملک شریف

Here you can find all qurani wazaif in urdu ۔
فضائل و فوائد سورۃ ملک شریف










رسول اللہ  صلی اللہ وسلم نے فرمایا کہ قرآن میں 30 آیات کی  ایک  سورۃ ہے جو مسلمان اس کا و رد کرے گا اس کے لئےخدا کے حضور اتنی شفاعت کرے گی کہ اس کی بخشش ہو جائیگی۔وہ سورۃتبارک الذی بیدہ الملک ہے۔     دارمی


رسول اللہ  صلی اللہ وسلم نے فرمایاجواس کو ہر رات پڑھا کرےاللہ تعالی اس کو عذاب قبر سے بچائے گا۔(  ابن ماجہ

رسول اللہ  صلی اللہ وسلم ہر رات پڑھ کر سوتے۔  ترمذی
ابن عباس رضی اللہ عنہ کہ ایک صحابی نے نادانستہ ایک قبر پر خیمہ کھڑا کر لیا۔اچانک ایک صحابی نے سنا کہ زمین کے
کوئی شخص تبارک الذی پڑھ رہا ہے جب اس نے سورۃ ختم کر  لی تو صحابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت
میں حاضر ہو کر واقعہ بیان کیا۔حضور صلی اللہعلیہ وسلم نے فرمایا یہ سورت گناہوں سے روکنے والی ہے اور پڑھنے والے کو  عذاب الہی سےنجات دلاتی ہے۔اس سےمعلوم ہوا کہ اولیاء اللہ اور صحابہ کرام قبروں میں زندہ ہیں۔قرآن کی تلاوت اور عبادت الہی میں مشغول رہتے ہیں۔
طاؤس راوی حدیث فرماتے ہیں کہ سورۃ ملک اور سورۃ الم تنزیل کو قرآن کی دوسری سورتوں پر ساٹھ نیکیوں کی عظمت دی جائے گی۔۔                  ۔دارمی
حاکم حضرت عباس سے حدیث نقل کرتے ہیں۔فرماتے ہیں حضور صلی اللہعلیہ وسلم کہ میں یہ بات پسند کرتا ہوں کہ ہر مسلمان کے دل میں تبرک الذی ہو۔
امام نسائی حضرت ابن مسعود سےنقل کرتے ہیں کہ یہی سورۃ ہر عذاب کو روکنے والی ہے جو عذاب قبر سے نجات دلائے گی۔                           تفسیر التقان
سورت ملک بعد غروب شمس صبح تک کسی وقت بھی ایک بار تلاوت کرنا عذاب قبر سے نجات ہے۔   از سیدی اعلی حضرت

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

ad